27 اپریل 2012 - 19:30

آل خلیفہ کے خلاف لاکھوں افراد کا مظاہرہ / آل خلیفہ اور آل سعود کا تشدد؛ درجنوں پرامن شہری زخمی / ساٹھ احتجاجیوں کے گھروں پر حملے / عبدالہادی الخواجہ کہاں ہیں؟ / خلیفی وزیر خارجہ نے آل سعود کا شکریہ ادا کیا/ برطانوی اکیڈمک سوسائٹی میں آل خلیفہ کی مذمت / امریکی تشویش بحرینیوںکےلئے نہیں / امریکہ اور اقوام متحدہ سنجیدہ نہيں ہیں؛ ایک مسجد اور شہید/ صلاح عباس کے قاتل گرفتار کرو؛حالات قابو سے باہر ہورہے ہیں / حکمران تشدد کے لئے جواز ڈھونڈ رہے ہیں / اصلاحات ڈھونگ ہے،2002 کا آئین برائی کی جڑ /انسانی حقوق اور آل خلیفہ کا سیاہ کارنامہ/ بحرین دھماکے کا منتظر؛ کیا عبدالہادی الخواجہ زندہ ہیں؟۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے اعلی اہلکاروں کی طرف سے بڑھتی ہوئی تشویش سامنے آنے کے بعد آل خلیفہ کی طرف سے عوام کے خلاف جبر و تشدد کا سلسلہ مزید سخت ہوگیا ہے اور لگتا ہے کہ بحرین میں آل خلیفہ کی ننھی سی آمریت (A Tiny Dictatorship in Bahrain) بھی سمجھ گئی ہے کہ اقوام متحدہ ایک ناقابل اعتماد اور غیر مؤثر ادارہ ہے یا پھر اقوام متحدہ کے سربراہوں کے بیانات آل خلیفہ کو سبز بتی دکھانے کے مترادف ہے!۔ روز ہفتہ 26 اپریل 2012 در حقیقت بحرین کے انقلاب کرامت کا 440واں دن ہے۔روز ہفتہ 26/ اپریل 2012 اور اس سے دو روز قبل بحرین پر کیا گذری اور وہاں کیا واقعات رونما ہوئے؛ مندرجہ ذیل سطور ميں ملاحظہ فرمایئے گا:ــ بحرین: آل خلیفہ خاندان کے خلاف لاکھوں افراد کا مظاہرہ بحرینی عوام نے ایک بار پھر اپنے جائز حقوق کے مطالبے پر تاکید کرنے اور عبدالہادی الخواجہ سمیت آل خلیفہ مخالف راہنماؤں کی جیلوں سے رہائی کے حق میں مظاہرہ کیا۔اطلاعات کے مطابق عبدالہادی الخواجہ سمیت آل خلیفہ مخالف راہنماؤں کی جیلوں سے رہائی کے حق میں مظاہرہ جمعہ کے روز "الخواجہ کی فتح" کے عنوان سے انجام پایا۔ عبدالہادی الخواجہ آل خلیفہ کی مطلق العنان حکومت کے مخالف راہنماؤں میں سے ہیں جنھوں نے گذشتہ اڑھائی مہینوں سے اپنی اور تمام بے گناہ اسیروں کی رہائی کی غرض سے بھوک ہڑتال کر رکھی ہے اور ان کے بارے میں مختلف قسم کی آراء سامنے آرہی ہیں کہ وہ: ـ شہید ہوگئے ہیں اور حکومت عبدالہادی الخواجہ کی شہادت کا اعلان کرنے کی جرئت نہيں رکھتی؛ـ عبدالہادی الخواجہ کی حالت نازک ہے اور حکومت نے انہیں کہیں چھپا رکھا ہےبہر حال بحرینی عوام نے عبدالہادی الخواجہ اور دیگر سیاسی و انقلابی راہنماؤں کی رہائی کے لئے ایک بار مظاہرہ کیا ہے۔مظاہرہ نے آل خلیفہ کی جبر و تشدد کی پالیسی کی مذمت کی اور 42 سال سے بحرین پر مسلط خلیفی وزیر اعظم خلیفہ بن سلمان آل خلیفہ کی برطرفی کا مطالبہ کیا۔ دریں اثناء بحرین کے عوام انقلاب کے قائد آیت اللہ شیخ عیسی قاسم نے جمعہ کے خطبوں میں کہا ہے کہ آل خلیفہ کی طرف سے جبر و تشدد کی پالیسی جنون اور درندگی کی حدود سے گذر گئي ہے۔ ــ بحرین: آل خلیفہ اور آل سعود کا تشدد؛ درجنوں پرامن شہری زخمیآل سعود کی جارح افواج کے حمایت یافتہ خلیفی گماشتوں نے عوام کے پرامن مظاہرے کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے درجنوں بحرینی شہریوں کو زخمی کردیا ہے۔ مظاہرین شہید صلاح عباس کی شہادت پر آل خلیفہ حکومت کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔مظاہرین نے اپنے جائز مطالبات کے حق میں نعرے لگائے جس پر آل خلیفہ کے گماشتوں نے عوام پر فائرنگ کھول دی اور فائرنگ و تشدد کے نتیجے میں درجنوں نہتے افراد زخمی ہوگئے۔ دریں اثناء آل خلیفہ کے ہاتھوں پرامن مظاہروں میں شرکت کی پاداش میں بے دخل کئے جانے والے سرکاری و نیم سرکاری اداروں کے ملازمین نے بھی احتجاجی مظاہرہ کیا اور ان کے کام پر لوٹانے کے سلسلے میں آل خلیفہ کے بادشاہ کے طرف سے ديئے گئے وعدوں پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا۔ آل خلیفہ حکومت نے فروری 2011 کو عوامی انقلابی تحریک کے آغاز سے اب تک سرکاری و غیر سرکاری اداروں اور حتی نجی کمپنیوں کے ہزاروں شیعہ ملازمین کو برخاست کررکھا ہے اور یہ ملازمین کی برطرفی آل خلیفہ کی "بھوک کے ذریعے سرتسلیم خم کرنے پر مجبور کرو" کی پالیسی کا حصہ ہے:بحرین/ نظام حکومت متوازن نہیں رہا، عوام پر بھوک مسلط کی جارہی ہےاس غیر انسانی، غیر اسلامی اور وحشیانہ اور قرون وسطائی پالیسی کا اعلان آل سعود کے حمایت یافتہ خلیفی وزیراعظم خلیفہ بن سلمان آل خلیفہ نے 1 اپریل 2011 کو کیا تھا۔ 42 سال سے بحرینی قوم پر مسلط اور خلیفی فرمانروا حمد بن عیسی آل خلیفہ کے چچا خلیفہ بن سلمان آل خلیفہ نے کہا تھا کہ خلیفی حکومت قوم کو بھوک میں مبتلا کرکے کچل دے گی۔آل خلیفہ وزیر اعظم کی قرون وسطائی دھمکیاں: ہم قوم کو بھوکا رکھ کر کچل دیں گےادھر بحرینی عالم دین علامہ الغریفی نے کہا ہے کہ آل خلیفہ کی حکومت مکارانہ انداز سے کوشش کررہی تھی کہ بحرین کی بحرانی کیفیت کو خوبصورت سا لبادہ پہنا کر دنیا والوں کو بتادیں کہ بحرین میں سب اچھا ہے لیکن وہ اپنی اس مذموم اور مکارانہ چال میں ناکام ہوچکی ہے۔ 

ــ بحرین: الدراز کے علاقے میں ساٹھ احتجاجیوں کے گھروں پر حملے بحرین کی سیاست جماعت "جمعيۃالاحرار" کے سربراہ نے خلیفی بادشاہ کے حکم پر الدراز کے علاقے میں ساٹھ معترضین کے گھروں میں خلیفی گماشتوں کے حملوں کا انکشاف کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق آل خلیفہ کے بیرونی گماشتوں نے دو شب قبل الدراز کے علاقے میں 60 گھروں پر چھاپے مارے ہیں اور درجنوں افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ بحرین کی سیاست جماعت "جمعيۃالاحرار" کے سربراہ "علی الفائز" نے کہا کہ آل خلیفہ کے بیرونی گماشتوں نے ایسے افراد کو گرفتار کرلیا ہے جنہوں نے اس سے قبل پرامن احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی تھی۔ انھوں نے آل خلیفہ کی استبدادی اور مطلق العنان حکومت کو حاصل امریکی حمایت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا: پرامن انقلابی تحریک کو کچلنے کے سلسلے میں آل خلیفہ کی پرتشدد کاروائیوں کا مقصد عوام کو یہ پیغام دینا ہے کہ اس حکومت کو بدستور امریکہ کی مالی اور سیاسی حمایت حاصل ہے۔ حریت پسند بحرینیوں کی جماعت کے سربراہ نے کہا: بحرین میں آل خلیفہ خاندان کے سوا کوئی بھی امریکی مفادات کا محاقظ نہیں ہے اسی وجہ سے امریکہ اور عالمی استکباری نظام اس ملک میں کسی قسم کی تبدیلی اور اصلاحات کی اجازت دینے کے لئے تیار نہيں ہے اور امریکہ و اسرائیل کے علاقائی عرب حواری اس خاندان کو ہر قیمت پر بچانا اور بحال رکھنا چاہتے ہیں۔الفائز نے کہا: امریکہ علاقے کی ریاستوں ميں اصلاحات اور حکومتوں کی تبدیلی کے عمل کو اپنے مفاد سے متصادم سمجھتا ہے اسی بنا پر منامہ حکومت کو امریکہ کی مسلسل حمایت حاصل ہے اور آل خلیفہ خاندان کے حکمران پورے سکون و اطمینان کے ساتھ عوام کو قتل کرتے ہیں، انہیں تشدد کا نشانہ بناتے ہیں، انہیں کام سے بے دخل کردیتے ہیں یا پھر انہيں لمبی لمبی قید کی سزائیں سناتے اور انہیں قسم قسم کی بے حرمتیوں کا نشانہ بناتے ہیں۔یاد رہے کہ آل خلیفہ کے کرتوتوں پر عالمی رد عمل جتنا شدید ہورہا ہے اس کے جرائم میں بھی اسی سطح پر اضافہ ہورہا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ آل خلیفہ امریکہ کا لاڈلا خاندان ہے اور امریکہ و اسرائیل کا دوسرا لاڈلا خاندان "آل سعود" بھی اسی بنا پر ان تمام مظالم و جرائم میں برابر کا شریک ہے۔ انھوں نے کہا: اس میں شک نہیں ہے کہ عالمی ظالمانہ نظام اور امریکہ و یورپ کے حکمران نیز عالمی اداروں اور انسانی حقوق کے نام نہاد نگہبان ـ جو عام طور پر جمہوریت اور انسانی حقوق کا نعرہ لگا کر ملکوں کو بلیک میل کیا کرتے ہیں ـ بحرینی عوام کے خلاف آل خلیفہ اور آل سعود کے جرائم و مظالم پر مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں لیکن بحرینی عوام کے عزم راسخ میں ذرہ برابر سستی نہيں آئی بلکہ مظالم و جرائم میں اضافے کے ساتھ ساتھ ان کے ارادے مضبوط سے مضبوط تر ہوگئے ہیں اور وہ آزادی اور جمہوریت حاصل کرنے کی راہ میں کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہيں کریں گے۔

ــ بحرین سیاسی جماعتیں: عبدالہادی الخواجہ کہاں ہیں؟آل خلیفہ کی مخالف سیاسی جماعتوں نے حکمران خاندان سے مطالبہ کیہ ہے کہ عبدالہادی الخواجہ کے قیدخانے کا نام بتائیں اور انہيں فوری طور پر رہا کردیں۔اطلاعات کے مطابق "جمعیۃالوفاق"، "جمعیۃالوحدوی"، "جمعیۃالقومی"، اور اہل سنت کی سیاسی جماعت "جمعیۃالوعد" نے اعلان کیا ہے کہ آل خلیفہ کی طرف سے مشہوری بحرینی قانوندان، انسانی حقوق مرکز کے سابق سربراہ اور انسانی حقوق کے شعبے میں فعال رہنما "عبدالہادی الخواجہ" کا اذیتکدہ مخفی رکھنا، اس حکومت کے لئے عالمی رسوائی کے اسباب فراہم کررہا ہے۔ عبدالہادی الخواحہ گذشتہ کئی مہینوں سے خلیفی اذیتکدوں میں قید ہیں تقریباً اڑھائی مہینوں سے خلیفی حکومت کے خلاف بھوک ہڑتال پر ہیں۔مذکورہ بالا شیعہ اور سنی جماعتوں نے اعلان کیا کہ آل خلیفہ سے وابستہ ادارے الخواجہ کے قیدخانے کا نام و نشان شائع کرنے سے دریغ کررہے ہيں اور ان کا یہ اقدام در حقیقت تمام اندرونی اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور ان کے قوانین کے خلاف اعلان جنگ کرنے کے مترادف ہے۔ مذکورہ بالا جمعیتوں نے کہا: الخواجہ کے خلاف آل خلیفہ کے جرائم و مظالم عوام کے خلاف اس خاندان کے مظالم کی چھوٹی سی مثال ہے۔بحرینی سیاسی جماعتوں نے مظاہروں کے پرامن پہلو پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ بحرین کے عوام نہایت تہذیب یافتہ اور متمدن لوگ ہیں اور ان کے مطالبات بھی جائز ہیں وہ بحرین میں حقیقی آزادی اور حقیقی جمہوریت کے خواہاں ہیں۔قابل ذکر ہے کہ عبدالہادی الخواجہ کی بھوک ہڑتال کے 78 دن پورے ہونے کے باوجود آل خلیفہ کے حکمرانوں نے ان کی رہائی کا اعلان نہيں کیا ہے اور نہ ہی ان سے کسی کو ملنے کی اجازت دی ہے اور یہ امر الخواجہ کی زندگی کے حوالے سے مختلف قسم کی افواہیں پھیلنے کا سبب بنا ہے۔ ــ بحرین: خلیفی وزیر خارجہ نے آل سعود کا شکریہ ادا کیاآل خلیفہ کے وزير خارجہ نے بحرین پر فوجی جارحیت کرکے عوام کو کچلنے میں بھرپور کردار ادا کرنے پر آل سعود کا شکریہ ادا کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق آل خلیفہ کے وزیر خارجہ شیخ خالد بن احمد بن محمد آل خلیفہ نے بحرین میں آل سعود کے سفیر "عبدالمحسن فہد المبارک" سے بات چیت کرتے ہوئے علاقے اور خاص طور پر بحرین میں آل سعود کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے آل سعود کا شکریہ ادا کیا۔اطلاعات کے مطابق آل سعود کے سفیر سے آل خلیفہ کے وزیر خارجہ کی ملاقات میں علاقے کی سیاسی صورت حال کا جائزہ لیا کيا اور آل خلیفہ کے وزیر خارجہ نے شام، مصر، یمن، لیبیا اور بحرین میں آل سعود کے کردار کو سراہا اور کہا کہ یہ پالیسیاں شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی ہدایت پر سعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل نے وضع کی ہیں اور ان پالیسیوں نے خلیج فارس کی ریاستوں میں جاری "سیاسی عمل" (!؟) میں تعمیری کردار ادا کیا ہے۔یاد رہے کہ آل سعود اور قطر کا حکمران خاندان آل ثانی بحرین، یمن، مصر، لیبیا، تیونس اور عراق میں فرقہ واریت کو ہوا دینے، عوامی اور اسلامی انقلابوں کو منحرف کرنے، صہیونیت مخالف رجحانات کو ٹھنڈا کرنے اور شام کی حکومت کو کمزور کرکے اسرائیل مخالف مزاحمت محاذ پر وار کرنے میں زبردست کردار ادا ک